حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمہوریہ آذربائیجان میں باحجاب طالبات پر عائد پابندیوں کے تناظر میں جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے مذہبی عقائد کا احترام کریں اور حجاب اسلامی کی پابندی کے سبب کسی بھی لڑکی کو تعلیم اور معاشرتی زندگی میں شرکت کے حق سے محروم نہ کریں۔ بیان کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جمہوریہ آذربائیجان اسلامی ثقافت اور اہل بیت علیہم السلام سے محبت کی روشن تاریخ رکھنے والی سرزمین ہے اور اس ملک کی مسلمان خواتین اور لڑکیوں کے لیے حجاب ایمان، دینی شناخت اور اسلامی اقدار سے وابستگی کی علامت ہے۔
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم باحجاب طالبات کے خلاف عائد کردہ پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آذربائیجان کے حکام سے توقع رکھتا ہے کہ وہ عوام کے مذہبی عقائد کا احترام کریں، غیر دینی لباس مسلط کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی زبردستی ختم کریں اور اس بات کی اجازت نہ دیں کہ کسی لڑکی کو حجاب اسلامی کی پابندی کے باعث تعلیم اور معاشرے میں شرکت کے حق سے محروم ہونا پڑے۔
بلاشبہ شہریوں کے مذہبی عقائد کا احترام دور اندیشی کی علامت اور سماجی اعتماد و اتحاد کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ مذہبی عقائد کو زبردستی اور پابندیوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ حکمت اور رواداری معاشرے کے انتظام اور انسانی وقار کے تحفظ کا زیادہ مناسب راستہ ہے۔
اسی بنا پر ہم خیرخواہی کے جذبے کے تحت جمہوریہ آذربائیجان کے حکام کو، جو سماجی آزادیوں کے نعرے لگاتے ہیں، مشورہ دیتے ہیں کہ وہ حجاب پر عائد پابندیوں سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا احترام کریں اور باحجاب لڑکیوں کے لیے عزت و سکون کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے اور زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کریں۔
امید ہے کہ تدبر اور باہمی احترام کے ذریعے اسلامی اقدار کے تحفظ، قومی اتحاد کے استحکام اور عوام کے حقوق کی پاسداری کی راہ ہموار ہوگی۔
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم










آپ کا تبصرہ